*پاکستان اور چین نے مشترکہ مفادات اور علاقائی امن کے فروغ پر ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ میں اتفاق کیا*
بیجنگ میں منعقدہ پاکستان اور چین کے ساتویں سٹریٹجک ڈائیلاگ میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے، مشترکہ سلامتی کے تحفظ اور علاقائی امن کے فروغ پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق، دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے واضح طور پر *ایک چین پالیسی* کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ چین نے کشمیر سمیت پاکستان کے اہم علاقائی مسائل پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے حل کی حمایت کی۔
دہشت گردی کے خلاف *زیرو ٹالرنس* کی مشترکہ پالیسی پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کے دوہرے معیار کی مخالفت کی۔ انہوں نے سی پیک منصوبوں کی حفاظت اور ہموار ترقی کے لیے سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
*سی پیک 2.0* کے تحت اقتصادی تعاون کو نئی راہیں دینے پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں صنعت، زراعت، معدنیات اور گوادر بندرگاہ کی ترقی پر خصوصی توجہ شامل ہے۔ دونوں فریقین نے تیسرے ممالک کی شراکت کو خوش آئند قرار دیا، بشرطیکہ وہ باہمی طے شدہ اصولوں کے مطابق ہو۔
دونوں ممالک نے 2025 میں اپنی دوستی کی *75ویں سالگرہ* کے موقع پر تقریبات منانے کا فیصلہ کیا، تاکہ نوجوان نسل میں باہمی مفاہمت اور رفاقت کو فروغ دیا جا سکے۔
افغانستان میں امن استحکام کے حوالے سے دونوں فریقین نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے، افغان عوام کی تعمیر و ترقی میں مدد اور علاقائی دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی، فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آئندہ سال اسلام آباد میں اگلے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے انعقاد پر اتفاق کے ساتھ، دونوں ممالک نے پاک چین دوستی کو مستقبل میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






