دفتر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ فہرستیں انڈین ہائی کمشنر کے حوالے کی گئی ہیں اور اس طرح کا تبادلہ سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری اور وحدت کے لیے مکمل پرعزم ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، جبکہ مسئلہ یمن کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
طاہر حسین اندرابی نے یہ بھی بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی، اس کے علاوہ انہوں نے بنگلادیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے بھی ملاقات کی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے عمل کو پاکستان مسترد کرتا ہے اور صومالیہ کی خودمختاری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اس حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے او آئی سی اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ نے ٹیلیفون کیا جس میں دوطرفہ تعلقات اور ازبک صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بات چیت ہوئی، جبکہ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کے موقف پر شکریہ ادا کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اسحاق ڈار جلد چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ پاک چین اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے۔ افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے معاملے پر ترجمان نے بتایا کہ کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانہ اپنے شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور طالبان حکام سے بھی رابطہ رکھا گیا ہے، اب تک 1100 سے زائد پاکستانی شہری کابل سفارت خانے سے رابطہ کر چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






