40 فیصد فونز خطرے میں ہیں، گوگل کا اعلان

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے اینڈرائیڈ فونز میں سے تقریباً 40 فیصد فونز نئے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ گوگل کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اینڈرائیڈ اپ ڈیٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اینڈرائیڈ 12 اور اس سے پرانے ورژنز پر چلنے والے فون ایسے حملوں کے خلاف مؤثر مزاحمت نہیں کر سکیں گے، جبکہ دنیا بھر میں صرف 58 فیصد اینڈرائیڈ فونز ہی سیکیورٹی سپورٹ کے دائرے میں رہیں گے۔

تازہ ترین چارٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں۔ دسمبر میں ڈیٹا اکٹھا کیے جانے کے وقت تازہ ترین آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ 16 صرف 7.5 فیصد فونز پر انسٹال تھا، جبکہ اینڈرائیڈ 15، 19.3 فیصد فونز، اینڈرائیڈ 14، 17.9 فیصد فونز اور اینڈرائیڈ 13، 13.9 فیصد فونز پر استعمال ہو رہا تھا۔

اینڈرائیڈ کے یہ چاروں ورژن اس لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ گوگل اب اینڈرائیڈ 12 یا اس سے پرانے ورژنز کے لیے اہم سیکیورٹی اپ ڈیٹس فراہم نہیں کر رہا۔ اس صورتحال میں جہاں تقریباً 58 فیصد فونز اب بھی گوگل کی سیکیورٹی سپورٹ کے تحت آتے ہیں، وہیں 40 فیصد سے زائد فونز اس سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک ارب سے زیادہ صارفین ایسے فون استعمال کر رہے ہیں جو نئے سائبر حملوں کے خطرے میں ہیں اور ان کے پاس اپنے ڈیوائسز کو سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے ذریعے محفوظ بنانے کا کوئی مؤثر طریقہ موجود نہیں۔

دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ایپل کو اپنے آئی فون صارفین کو iOS 26 پر اپ گریڈ کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب تک صارفین اپ ڈیٹ نہیں کرتے، وہ بھی ممکنہ سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں، تاہم یہ مسئلہ عارضی بتایا جا رہا ہے کیونکہ آئندہ مہینوں میں زیادہ تر آئی فونز اپ ڈیٹ ہو جانے کی توقع ہے، جبکہ مکمل طور پر سپورٹ سے باہر ہونے والے آئی فونز کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی صارف کا اینڈرائیڈ فون اینڈرائیڈ 13 یا اس سے جدید ورژن پر اپ ڈیٹ نہیں ہو سکتا تو بہتر سیکیورٹی کے لیے نیا فون خریدنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close