“کمنٹس بند کرنے کے بیان پر طوفان، مصدق ملک نے آخر کیا وضاحت دی؟”

معروف پاکستانی ہدایتکار اور اداکار مصدق ملک نے سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد اپنے حالیہ متنازع بیان پر وضاحت جاری کر دی ہے۔

مصدق ملک نے اپنے فنی سفر کا آغاز سکس سگما پروڈکشن ہاؤس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کیا اور ہمایوں سعید کی کئی کامیاب پروڈکشنز کا حصہ رہے۔ وہ بلاک بسٹر ڈرامہ میرے پاس تم ہو میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں، جبکہ الف، نور جہاں اور میں منٹو نہیں ہوں جیسے نمایاں منصوبے ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ بطور ہدایتکار وہ حبس، نور جہاں اور حالیہ مقبول ڈرامہ میری زندگی ہے تو کی ہدایتکاری کر چکے ہیں۔

حال ہی میں مصدق ملک اس وقت خبروں میں آئے جب سوشل میڈیا پر کمنٹس کے حوالے سے ان کا ایک بیان وائرل ہوا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر کمنٹس سیکشن مکمل طور پر بند ہونا چاہیے اور ناظرین کو ٹی وی کونٹینٹ یا تو دیکھنا چاہیے یا نظرانداز کرنا چاہیے، اظہارِ رائے کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ہونا چاہیے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جہاں صارفین اور مداحوں کی بڑی تعداد نے ان کے مؤقف کو ناپسند کیا۔ تنقید بڑھنے پر مصدق ملک نے انسٹاگرام پر وضاحتی بیان جاری کیا۔

اپنی وضاحت میں انہوں نے کہا کہ ایک مختصر کلپ کو مکمل سیاق و سباق کے بغیر دیکھنے سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ گفتگو ڈرامہ ناظرین، یوٹیوب ویوز یا میری زندگی ہے تو کے بارے میں نہیں تھی بلکہ آن لائن بُلنگ اور نفرت انگیز تبصروں کے اثرات سے متعلق تھی۔ مصدق ملک نے واضح کیا کہ مسلسل تنقید اور نفرت انگیز کمنٹس کسی بھی فرد کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں اور بعض اوقات اس کے خطرناک نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر ماڈلز، اداکاروں اور دیگر عوامی شخصیات کی بات کر رہے تھے جو روزانہ آن لائن نفرت کا سامنا کرتی ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی رائے پر پہنچنے سے پہلے مکمل گفتگو دیکھیں، کیونکہ الفاظ کے ساتھ تناظر بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے اور ذہنی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ تاہم وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر ردِعمل منقسم نظر آ رہا ہے۔ کچھ صارفین مصدق ملک کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ شوبز شخصیات پہلے متنازع بیانات دے کر توجہ حاصل کرتی ہیں اور بعد میں وضاحت پیش کر دیتی ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close