3 دفعہ موت کے منہ سے واپس آچکی ہوں، پاکستانی اداکارہ مشعل خان کا حیران کن انکشاف

لاہور (پی این آئی) اداکارہ مشعل خان نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں وہ ’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ یعنی کھانے پینے کی بے ترتیبی جیسے مسئلے کا شکار تھیں،جس وجہ سے وہ مرتے مرتے بچیں۔حال ہی میں مشعل خان نے ’فوشیا میگزین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے بچپن اور کم عمری سمیت شوبز کی دنیا میں آنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر کھل کر بات کی۔مشعل خان نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے اور کاروباری گھرانے سے ہے اور ان کے خاندان کے تمام افراد نے بزنس، قانون اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے جب کہ انہیں بھی ایسا ہی کرنے کا کہا گیا تھا۔

اداکارہ کے مطابق انہیں بچپن سے ہی آرٹ میں دلچسپی تھی اور وہ شروع سے ہی خاندان کے دیگر افراد کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہتی تھیں اور جب وہ گھر والوں کو بتاتی تھیں کہ انہیں اداکاری کرنی ہے تو وہ ان کی باتوں پر تعجب کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بیرون ملک بھی تعلیم حاصل کی اور شروع میں ان کا وزن کافی زیادہ تھا اور انہیں ان کے وزن کی وجہ سے زمانہ طالب علمی میں ہراساں کیا جاتا تھا۔مشعل خان کے مطابق ان کے کلاس فیلوز نے موٹاپے یا زائد وزن کو بدصورتی کے ساتھ جوڑ دیا تھا، یعنی ان کے دوستوں کی نظر میں فربہ ہونا اچھی بات نہیں تھی۔اداکارہ مشعل خان سے سوال کیا گیا کہ جو بچے اس چیز سے گزر رہے ہیں آپ انہیں کیا مشورہ دیں چاہیں گی؟ جس پر مشعل خان نے کہا کہ کوئی آپ کو ہراساں کرے تو منہ پر تھپڑ لگا دیں۔اس وقت ہمیں لگتا ہے کہ پرنسپل سکول سے نکال دیں گی لیکن وہ نہیں نکالیں گے۔اس وقت ہمیں لگتا ہے کہ پرنسپل سکول سے نکالیں گی لیکن وہ نہیں نکالیں گی۔آپ مار دیں اور اپنے لیے کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جنہیں بچپن میں ہراساں کیا جاتا ہے پھر وہ بڑے ہو کر بھی ہراساں ہوتے ہیں۔اس کے بعد میں نے ڈائٹنگ شروع کی اور ایک وقت ایسا تھا جب چھ آٹھ مہینے کچھ نہیں کھایا تھا۔واضح رہے کہ اداکارہ مشعل خان نے ’سنو چندا‘ سے اداکاری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں تھوڑا سا حق، پری زاد جیسے ڈرامے شامل ہیں۔