کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں منکی پاکس اور چکن پاکس جیسی پراسرار جلدی بیماری کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر تمام اسپتالوں کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور فوری اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں بچوں اور بڑوں میں ایسی علامات ظاہر ہو رہی ہیں جو منکی پاکس اور چکن پاکس سے مشابہ ہیں، اور یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ڈی جی ہیلتھ سندھ نے آغا خان اسپتال کو خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ مشتبہ کیسز کے نمونے فوری طور پر ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں اور نتائج محکمہ صحت کو فراہم کیے جائیں۔
تمام اضلاع کے اسپتالوں کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ کمشنر سکھر نے سیکریٹری صحت کو خط لکھ کر ڈویژن بھر میں فوری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ خیرپور ضلع اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں گزشتہ 10 دنوں کے دوران اس بیماری میں مبتلا 7 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد پورے ڈویژن میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی کے مطابق خیرپور میں جلد کی بیماری سے اب تک 7 بچوں کی موت ہو چکی ہے اور 16 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن کی علامات منکی پاکس اور چکن پاکس سے مشابہ ہیں۔ خیرپور کے ایک نجی اسپتال میں 4 کیسز رپورٹ ہونے پر اسے فوری طور پر سیل کر دیا گیا جبکہ سکھر کے ایک نجی اسپتال میں بھی کیس رپورٹ ہوا۔
سول اسپتال سکھر اور خیرپور اسپتال میں ہنگامی بنیادوں پر آئسولیشن وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ مریضوں کا فوری علاج اور نگرانی کی جا سکے۔ ڈی جی ہیلتھ سندھ نے ایک بار پھر آغا خان اسپتال کو خط لکھ کر کہا کہ مشتبہ کیسز کے نمونے فوری ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں اور نتائج سے محکمہ صحت کو بروقت آگاہ کیا جائے۔
کمشنر سکھر نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے جس میں بیماری کی علامات اور اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈویژن بھر میں عوام کو آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہم چلائی جائے گی اور اسپتالوں میں ایس او پیز (SOPs) پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






