خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں مائننگ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔
رستم پلوڈھیری کے پہاڑ پر سنگ مرمر نکالنے کے دوران یہ دھماکا ہوا، جس کے باعث پہاڑی تودہ گر گیا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے وقت کان کنی میں 12 مزدور مصروف تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو عملہ ہیوی مشینری سمیت موقع پر پہنچا اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ایک مزدور کی تلاش جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مردان مائننگ حادثے کا نوٹس لیا اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی، جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
سہیل آفریدی نے زخمیوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے کی سخت ہدایت کی اور انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو آپریشن تیز کرنے کا کہا۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے حادثے کی وجوہات جاننے اور حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ مائننگ میں سکیورٹی اور سیفٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرین کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






