تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق اہم خبر آگئی

آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے تعلیمی ادارے 24 مارچ سےکھولنے کا مطالبہ کر دیا۔

ایپسما  کے رہنما ابرار احمد خان نے کہا ہے کہ 31مارچ تک تعطیلات کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، پنجاب میں صرف 124 تدریسی دن اور عالمی اوسط 186 دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سری لنکا، بھارت اور بنگلادیش میں اسکول بند نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے پہلے ہی صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے اسکولوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی تجاویز پر ہمدردی سے غور کیا جائے گا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

پنجاب کے محکمہ تعلیم نے طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور تعلیمی سال کے دوران نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں کی چھٹیوں میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے دوران ہفتہ وار چھٹیوں کو ختم یا کم کیا جائے تاکہ تعلیمی کیلنڈر کو کم از کم 180 دن تک بڑھایا جا سکے۔

پاکستان ایجوکیشن فورم کے سربراہ قاضی نعیم انجم نے تجویز پیش کی ہے کہ موسمِ گرما کی چھٹیاں صرف دو ماہ تک محدود کی جائیں، جبکہ جنوری میں ہونے والی موسمِ سرما کی تعطیلات کو 10 دن تک کر دیا جائے۔

قاضی نعیم انجم نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال غیر اعلانیہ چھٹیوں کی وجہ سے صرف 127 دن تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں، جس سے نصاب کی تکمیل میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

انہوں نے نصاب کی مؤثر کوریج کے لیے تعطیلات کے دوران ‘سمر کیمپس’ متعارف کرانے کی بھی سفارش کی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close