حکومت پنجاب کے لگژری طیارے کی بات 11 ارب سے کہیں آگے نکل گئی، اس طیارے کو اُڑانے والے پائلٹس کی تنخواہوں اور مراعات کی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات نے ہوش اڑا دیے۔
نچی ٹی وی پروگرام میں میزبان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حکومت پنجاب نے طیارے کیلیے کتنی بھاری تنخواہوں پر پائلٹ رکھے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ جہاز کے دونوں پائلٹ غیرملکی ہیں، جس میں ایک پائلٹ کی تنخواہ 32ہزار اور دوسرے پائلٹ کی تنخواہ 38 ہزار ڈٖالر ہے، ان پائلٹوں کو بھاری بھرکم تنخواہوں کے علاوہ دیگر مراعات بھی دی گئی ہیں۔
اگر شروع کے چار ماہ کی تنخواہ کی بات کی جائے تو اس کی رقم 7 کروڑ 84 لاکھ روپے بنتی ہے اس کے علاوہ ان کی 5 اسٹار ہوٹل کی رہائش اور کھانے کے اخراجات بھی حکومت کے ذمہ ہیں، اگر اس کا مجموعی تخمینہ لگایا جائے تو ان پر اب تک 9 کروڑ 28 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ مذکورہ دونوں پائلٹس دیگر پائلٹس کو تربیت دیں گے لیکن بدقسمتی سے یہ بات سامنے آئی کہ اس طیارے کے پائلٹس کی تربیت صرف امریکا میں ہی ہوتی ہے جس کا کم سے کم خرچہ ایک لاکھ ڈالر یعنی دو کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔
اس کے علاوہ ان پائلٹس کی سالانہ تربیت بھی ہوتی ہے جس پر 30 ہزار ڈالر کے اخراجات ہیں یاد رہے کہ
گزشتہ روز حکومتی ذرائع نے اے آر وائی نیوز کو بتایا تھا کہ وی آئی پی فلائٹ کیلیے 86 کروڑ 15 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز کی سمری تیار ہے، سپلیمنٹری گرانٹ گلف اسٹریم جی 500 کے آپریشن اور اخراجات کیلیے منظور ہوگی تاہم اس حوالے سے کسی عہدیدار نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






