پنجاب میں دل دہلا دینے والے سانحات پر مٹی پاؤ کلچر دفن ہو گیا۔
سانحہ بھاٹی گیٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شدید برہمی رنگ لے آئی۔ بھاٹی گیٹ پر کام کرنے والی کمپنی کو کام سے روک دیا گیا اور تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔
سانحہ بھاٹی گیٹ میں عفلت برتنے والے سرکاری افسران کے گرد بھی گھیراؤ کیا گیا ہے۔
کمپنی کی مجرمانہ غفلت، بنیادی حفاظتی ایس اوپیز سے مجرمانہ روگردانی حادثے کی وجہ بنی ہے جس پر نجی کمپنی کے سیفٹی آفیسرز سمیت 5ملزمان سلاخوں کے پیچھے ہیں اور 4روزہ ریمانڈ پر ہیں۔
سانحہ بھاٹی گیٹ کمپنی کے مالکان عثمان یاسین اور سلمان یاسین بھی گرفتارکر لیے گئے جب کہ مجرمانہ غفلت برتنے پر نجی کمپنی کے سیفٹی افسر محمد ہنزلہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
پانچوں ملزمان اصغرعلی، سیفٹی افسرہنزلہ، احمدنواز، مالکان سلمان یاسین، عثمان یاسین سے تفتیش جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے نوٹس کے بعد سانحہ بھاٹی ‘ڈیتھ ٹریپ’ محفوظ زون میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے بغیر کام پر پابندی اور سائٹ کو جدیدسیفٹی پروٹوکولز سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نے کا کہنا ہے کہ مٹی پاؤ’ کا دور ختم اور پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیاجائےگا، ہستابستا گھرانہ اجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا میرا مشن ہے، معصوم سعدیہ اور اس کی ننھی پری کے زخم دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا یہ زخم پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں،۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






