اسلام آباد: نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی کاروباری تنظیموں کے ساتھ ہونے والی ورچوئل میٹنگ کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ بجٹ میں سپر ٹیکس کے خاتمے یا اس میں کمی کی یقین دہانی کرا دی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی لانے کے لیے جلد خصوصی پیکیج لانے پر بھی غور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی سے زرمبادلہ کی واپسی اور ترسیلات زر میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ غیرمنقولہ جائیداد پر فرضی آمدن (سیون ای) کے تحت عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
کاروباری طبقے نے مطالبہ کیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے پیکیج کا اعلان بجٹ سے پہلے کیا جائے، جبکہ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث دبئی سے سرمایہ پاکستان منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے مراعات دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے۔
کاروباری تنظیموں نے برآمدی شعبے کے لیے ٹیکس ریٹس میں کمی کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ اجلاس میں ایس ایم ایز سیکٹر کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی، سرمایہ کاری پر مراعات اور صنعتی مشینری و خام مال پر ٹیکس کم کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
مزید برآں آئی ٹی، فارما سیوٹیکل، معدنیات، کان کنی اور زرعی شعبوں کو ریلیف دینے، صنعتی پالیسی کے جلد اعلان، ٹیکس نظام کی مرحلہ وار ڈیجیٹلائزیشن اور قواعد و ضوابط میں آسانی پر بھی زور دیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






