اسلام آباد ایران اور امریکا میں 15 روزہ جنگ بندی کرانے کی پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے بعد ملک کو معاشی حوالے سے خوشخبری ملی ہے، پاکستان میں ٹائر انڈسٹری میں بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور چینی اشتراک سے 12 کروڑ ڈالر کی توسیع کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر تجارت جام کمال سے چینی وفد نے ملاقات کی، جس میں برآمدات بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ سروس لانگ مارچ ٹائرز کا بڑا ہدف ہے اور جون 2026 تک 7 کروڑ ڈالر کی برآمدات متوقع ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹائر برآمدات میں امریکا کا پانچواں اور برازیل کا ساتواں بڑا ایکسپورٹر بن گیا ہے اور آئندہ مالی سال میں ٹائروں کی برآمدات 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ وفد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی ٹیکنالوجی سے مقامی ٹائر انڈسٹری عالمی معیار تک پہنچ چکی ہے۔ وفد نے ٹائرز پر درآمدی ڈیوٹی 20 فیصد برقرار رکھنے کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے خام مال پر کم ڈیوٹی اور تیار ٹائرز پر نرمی مقامی صنعت کے لیے خطرہ قرار دیا۔وزیر تجارت جام کمال نے ٹائر انڈسٹری کو مکمل حکومتی حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ برآمدی شعبوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔انہوں نے پاک چین صنعتی شراکت داری کو ٹائر سیکٹر کی تیز رفتار ترقی کی بڑی وجہ قرار دیا اور بتایا کہ حکومت اور صنعت کے قریبی تعاون سے برآمدات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد صنعتی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






