پاکستان اور افغانستان نے باہمی اختلافات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
چین کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ارمچی میں ہونے والے سہ ملکی مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں۔ مذاکرات میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وفود نے شرکت کی، جن میں خارجہ، دفاع اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ نمائندے شامل تھے۔
چینی ترجمان کے مطابق پاکستانی اور افغان وفود نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام اختلافات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع منصوبے پر بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
مزید برآں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے ترجیحی نکات کی نشان دہی کر لی گئی ہے، جن پر آئندہ مذاکرات میں پیش رفت کی جائے گی۔
روئٹرز کے مطابق کابل میں طالبان حکومت نے منگل کو کہا کہ افغانستان اور پاکستان نے چین میں ہونے والے مذاکرات میں گزشتہ اکتوبر جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان شروع ہونے والے تنازع کے حل کے لیے ’’مفید‘‘ پیش رفت کی ہے۔
دونوں مسلم ممالک گزشتہ ہفتے سے چین کے شمال مغربی شہر ارمچی میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسلام آباد افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے شدت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔
اپنے دفتر سے جاری بیان میں افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ ’’اب تک مفید بات چیت ہو چکی ہے‘‘ اور امید ظاہر کی کہ معمولی اختلافی تشریحات مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






