ملک میں 27 لاکھ کی گاڑی کی قیمت بڑھا کر 80 لاکھ ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی غیر قانونی آمد کا معاملہ زیرِ بحث آیا، جہاں عابد شیر علی نے گاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتوں کو “ظالمانہ” قرار دیا گیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی گئی۔

سینیٹر عابد شیر علی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں گاڑیاں سستی ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جو گاڑی پہلے 27 لاکھ روپے کی تھی، اس کی قیمت بڑھا کر 80 لاکھ روپے تک پہنچا دی گئی ہے، اور یہ اضافہ مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مصنوعی طور پر کیا جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان ہو رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی امپورٹ پالیسی کے تحت 5 سال سے زیادہ پرانی گاڑی پاکستان درآمد نہیں کی جا سکتی، جبکہ کے پی اور بلوچستان میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی کوئی سرکاری اجازت نہیں ہے اور ایسی گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جاتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close