اسلام آباد: شناختی کارڈ اور ب فارم کی مختلف کیٹیگریز کے لیے فیسوں اور کارڈ کی تیاری کی مدت سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں، جن کے تحت مختلف سروسز کے لیے الگ الگ فیس مقرر کی گئی ہے۔
نادرا کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس، بینک اکاؤنٹ، پاسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں داخلے سمیت تمام بنیادی ضروریات کے لیے شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شناختی کارڈ اب روزمرہ زندگی کی اہم ترین دستاویز بن چکا ہے اور اس کے بغیر کئی بنیادی کام ممکن نہیں۔
نادرا نے شناختی کارڈ اور ب فارم کی مختلف کیٹیگریز کے لیے فیسوں اور کارڈ کی تیاری کی مدت کی نئی تفصیلات شیئر کردی ہیں۔
شناختی کارڈ کی فیسیں:
پاکستانی شہریوں کے لیے پہلے شناختی کارڈ کی کوئی فیس نہیں ہے، جبکہ دیگر کیٹیگریز کی فیسیں درج ذیل ہیں:
نیا اسمارٹ کارڈ: نارمل 750 روپے (31 دن)، ارجنٹ 1500 روپے (23 دن) اور ایگزیکٹو 2500 روپے (9 دن)۔
کارڈ کی تجدید یا تبدیلی: نارمل 400 روپے، ارجنٹ 1150 روپے اور ایگزیکٹو 2150 روپے (سمارٹ کارڈ کے لیے یہ فیسیں 750 سے 2500 روپے تک ہیں)۔
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ: ایگزیکٹو کیٹیگری میں 1000 روپے (ایک دن)۔
چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور بے فارم: نارمل 50 روپے اور ایگزیکٹو 500 روپے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے فیسیں:
سمندر پار پاکستانیوں کو دو زونز میں تقسیم کیا گیا ہے:
زون اے (امریکہ، یورپ): نیا نکوپ نارمل 39 ڈالر، ارجنٹ 57 ڈالر اور ایگزیکٹو 75 ڈالر۔
زون بی (مڈل ایسٹ، افریقہ): نیا نکوپ نارمل 20 ڈالر، ارجنٹ 30 ڈالر اور ایگزیکٹو 40 ڈالر۔
نادرا نے سمارٹ نکوپ میں عمر کی تبدیلی کے لیے بھی باقاعدہ فیس اور طریقہ کار کا اعلان کیا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق شناختی کارڈ اب صرف شناخت کی دستاویز نہیں بلکہ صحت اور تعلیم کے نظام سے بھی براہِ راست منسلک ہے، جس کے بغیر طبی ریکارڈ کی ٹریکنگ اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تصدیق ممکن نہیں۔
اوورسیز پاکستانی ‘پاک آئی ڈی’ (PakID) ایپ کے ذریعے بھی اپنی تفصیلات اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






