فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارت کاری! ایران جنگ خاتمے کے لیے ‘معاہدہ اسلام آباد’ تیار

اسلام آباد : فیلڈ مارشل سیدعاصم منیرکی کامیاب سفارت کاری کی بدولت ایران جنگ خاتمے کے لیے فارمولا امریکا اور ایران کے حوالے کر دیا گیا ، منصوبے میں دومرحلوں کا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ “معاہدہ اسلام آباد” کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے، جس کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک سفارتی کوششوں کے سر جاتا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ نے بتایا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے، جو امریکہ اور ایران کے حوالے کر دی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں فوری طور پر جنگ بندی کی جائے گی، جس کے بدلے میں ایران اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ‘آبنائے ہرمز’ کو جہاز رانی کے لیے کھول دے گا۔

دوسرا مرحلے میں مستقل اور وسیع تر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 15 سے 20 دن کا وقت دیا جائے گا، جس کے حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔

غیرملکی خبرایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس نازک موڑ پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہ راست رابطے کر کے مذاکرات کی راہ ہموار کی۔

امریکا ایران جنگ بندی کے مجوزہ معاہدے کواسلام آباداکارڈ کانام دیاگیا ہے، روئٹرزکاکہناہےایران مستقل جنگ بندی چاہتا ہے۔ جس میں امریکا اوراسرائیل کے دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت شامل ہو۔

فیلڈمارشل سیدعاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کے نتیجے میں اسلام آباد اس وقت سفارتکاری کا دارالحکومت بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے صدرٹرمپ فیلڈ مارشل کی شان میں قصیدے پڑھتےدکھائی دیتے ہیں توکبھی ایرانی پارلیمان تشکرپاکستان کےنعروں سےگونجتی ہے۔ کبھی عباس عراقچی ٹوئٹ کرکے پروپیگنڈاکرنے والوں کومنہ توڑجواب دیتےہیں توکبھی ایرانی عوام پاکستان کےحق میں مظاہرے کرکے یکجہتی کااظہار کرتے ہیں۔

اس مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا علاقائی فریم ورک شامل کیا گیا ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو معاشی بحران اور جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ثابت ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close