لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے پیچھے چھپی کہانی سامنے لے آئے ہیں
اور اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے پٹرول پر لیوی کم کر کے پٹرول کی نئی قیمت ایک ھی دن میں 458 روپے سے 378 فی لٹر کر دی ہے، وفاقی حکومت نے پہلے مرحلے پر امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں بڑھنے والی قیمتوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام پر کٹ لگا کر 129 روپے کا بوجھ برداشت کیا .
انہوں نےبتایاکہ ہماری اطلاع کے مطابق اس دوران وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو پٹرولیم لیوی میں ریلیف پر قائل کرنیکی کوشیشیں جاری رکھیں جو ابتدائی طور پر کامیاب نہ ھو سکیں، بلا آخر وزیر اعظم کی براہ راست مداخلت اور گہری دلچسپی کے باعث آئی ایم ایف ریونیو ٹارگٹ میں کمی پر آمادہ ھو گیا ھے ، اسی وجہ سے پٹرول پرائس پر فی لیٹر 80 روپے لیوی میں کمی ممکن ہوئی ہے،صوبائی حکومتیں بھی ٹرانسپورٹرز کو کراۓ کم سے کم بڑھانے کیلئے ریلیف پیکیج دے رہی ہیں،عوام کو اس عذاب سے ممکنہ حد تک بچانے کیلئے تمام حکومتی کوشیشیں تحسین کی مستحق ہیں، تمام صوبائی حکومتیں اشیاۓ خور و نوش ، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاۓ صرف کی قیمتیں تیل کی قیمت میں اضافے کی شرح سے زیادہ بڑھانے والے عناصر کو مانیٹر کریں اور ایسے عناصر نشان ِ عبرت بنایا جاۓ .انہوں نے مزید لکھا کہ ڈیزل کی موجودہ قیمت پر کاشتکاری تقریباً ناممکن ھو گیا ھے ، حکومت کو ڈیزل کی قیمت میں توازن رکھنے کیلئے کوئی جگاڑ لگانا پڑے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






