آسمانی بجلی گرنے سے بڑا نقصان ہوگیا

پشاور، کوئٹہ خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور طوفان کی وجہ سے 25 مارچ سے لے کر اب تک 30 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے

۔پی ڈی ایم اے کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہوئی ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں 20 بچے، پانچ مرد اور پانچ خواتین شامل ہیں جبکہ 36 مرد، 11 خواتین اور 38 بچے زخمی ہوئے ہیں۔یہ حادثات ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشیں چار اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع موسی خیل میں آسمانی بجلی گرنے کے ایک المناک واقعے میں 65 دنبے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جس سے متاثرہ گلہ بان کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق موسی خیل کے مضافاتی علاقے میں موسلا دھار بارش کے دوران اچانک آسمانی بجلی مویشیوں کے ریوڑ پر گری،
اس آسمانی آفت کے نتیجے میں 65 دنبے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ 15 دنبے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ شخص نے روتے ہوئے دہائی دی کہ “آسمانی بجلی نے میرا سب کچھ ختم کر دیا ہے، یہی میری کل کائنات تھی۔ میں اب بالکل بے سہارا ہو چکا ہوں۔متاثرہ گلہ بان اور علاقے کے مکینوں نے حکومتِ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غریب متاثرہ شخص کی فوری مالی امداد کی جائے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت دوبارہ شروع کر سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close