کون کون سے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی ملے گی اور کسے نہیں ؟ جانئے

حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر سبسڈی کے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ہر شہری کو نہیں دی جا سکتی۔

وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ سبسڈی صرف مستحق افراد تک محدود رکھنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ جاننا ممکن ہے کہ کون سبسڈی کا حقدار ہے۔ ان کے مطابق ایپ کے ذریعے موٹرسائیکل سواروں کی رجسٹریشن کی تصدیق کی جا سکتی ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا ڈیٹا بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس موٹرسائیکلوں سے متعلق مکمل ڈیٹا موجود ہے اور انہی کی تجویز کے تحت اس شعبے میں سبسڈی دی جا سکتی ہے۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ہر موٹرسائیکل سوار اس سہولت کا اہل نہیں ہوگا، خاص طور پر وہ افراد جن کے پاس مہنگی یا ہیوی بائیکس ہیں، انہیں سبسڈی کی ضرورت نہیں سمجھی جائے گی۔

عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ کئی ممالک میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور بعض جگہوں پر یہ اضافہ 70 سے 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے نسبتاً محتاط حکمت عملی اپنائی اور فوری طور پر قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہیں کیا۔

خرم شہزاد نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر ہوئے اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close