پاکستان پر قرضوں کا مجموعی حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ فی شہری قرضہ 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک پر بڑھتے ہوئے مقامی اور بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگرامز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں ملکی معیشت کے حوالے سے کئی تشویشناک حقائق سامنے آئے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان پر قرضوں کا کل حجم 81 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے، جس میں سے 26 ہزار ارب روپے بیرونی جبکہ 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضہ شامل ہے۔
حکام کے مطابق اگر 25 کروڑ کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہر پاکستانی شہری اس وقت 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہے۔
اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نیا لیا جانے والا قرضہ سود سمیت واپس کیا جاتا ہے اور عملاً نئے قرضوں کے ذریعے پرانے قرضے ادا کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے اس بیان پر کمیٹی ارکان کے درمیان قہقہے بھی لگے، تاہم چیئرمین کمیٹی نے اس صورتحال کو ملک کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر برآمدات میں اضافہ کیا جائے تو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے عراق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگوں کے باوجود بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ملک اب زیادہ تر اشیاء درآمد نہیں کرتا۔
چیئرمین کمیٹی نے ارکان اسمبلی کو دیے گئے 50 کروڑ روپے کے فنڈز پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اتنی بڑی رقم سات دن میں خرچ ہونا ممکن نہیں، یہ رقم ارکان کی جیبوں سے برآمد ہوگی۔ انہوں نے ان فنڈز کی حوصلہ شکنی کا بھی مطالبہ کیا۔
سیف اللہ ابڑو نے جذباتی انداز میں کہا کہ “خدا کے واسطے رحم کریں، ملک تباہ ہوتا جا رہا ہے”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرضوں کے بوجھ میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی مرتب کی جائے، جبکہ قومی خزانے سے 65 ارب روپے لینے والے بینکوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں اور قرضوں کی واپسی کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی پر بوجھ کم ہو اور ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






