بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اضافی پیدا ہونے والی بجلی کو اب ’صفر‘ یونٹ کے طور پر ڈکلیئر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین کے کنکشن پر ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے مطابق اس چیک کے نفاذ کے بعد اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر فراہم کیا جانے والا ریلیف مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق اضافی پیداوار سسٹم پر شامل ہو جائے گی، تاہم نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت اس پر کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی ریڈنگ کی بنیاد پر اضافی جنریشن پر دیا جانے والا ریلیف بند کر دیا ہے۔ ساتھ ہی منظور شدہ جنریشن لائسنس سے زائد پینلز لگانے کی صورت میں ایکسپورٹ یونٹس پر بھی کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





