راولپنڈی: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا واضح موقف ہے سب سے پہلے پاکستان ہے، بانی پی ٹی آئی کے بچوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی نہ ہم کریں گے،
عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کے خلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں بند کی گئیں،اب بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں بند کردی گئی ہیں، جو لوگ ملاقاتوں میں رکاوٹ ہیں ان کو عوام کے جذبات کا خیال نہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بشری بی بی کی آنکھ کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے،ان کی فیملی کوبھی ملاقات کرنے نہیں دی جا رہی، گزشتہ چار ہفتوں سے بشری بی بی کی ملاقات بند ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ملک میں تنا ئواور انارکی ہو،
اچکزئی صاحب آج واپس آرہے ہیں ،آج (بدھ کو ) ہماری پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہے، جہاں تمام معاملات پر گفتگو ہوگی۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے، ہم چاہتے سیاسی مسئلوں کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے، کچھ لوگ ہیں جو مسائل کا سیاسی حل نہیں چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 14 ماہ بعد بھی بانی پی ٹی آئی کی سزاں کی معطلی پر فیصلہ نہیں ہو سکا، عدالت نے کہا ہے اب مرکزی اپیلوں پر فیصلے ہوں گے، پاکستانی سمجھتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو سیاسی بنیادوں پر جیل میں رکھا گیا ہے۔بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا واضع موقف ہے سب سے پہلے پاکستان ہے،
بانی پی ٹی آئی کے بچوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی نہ ہم کریں گے، عمران خان کے بچے کبھی پاکستان کے خلاف بات کرینگے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کی باتوں کو متنازعہ بنایا جارہا ہے، پاکستان کے جی ایس پی پلس کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ 2025 کے بعد پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں ہم نے بھرپور ساتھ دیا ، سعودی عرب نے جوابی حملے نہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے، حکومت نے کیا معاہدے کیے ہیں آج تک پارلیمنٹ کو نہیں بتایا گیا، پاکستان ثالثی کر رہا ہے یہ بھی پارلیمنٹ کو نہیں بتایا جارہا، مطالبہ ہے
کہ پاکستان کی جو بھی پالیسی ہے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سہیل آفریدی صاحب جو کہہ رہے ہیں اللہ نہ کرے کسی کی لاش گرے، اللہ نہ کرے کہ کوئی گولی چلے ہم پرامن لوگ ہیں، عوام کو ڈرانے کی ضرورت نہیں کہ گولی چلے گی یا یہ ہوگا وہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز سنے جائیں، ہم نہیں چاہتے پی ٹی آئی کا کوئی ورکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے، فی الحال ہم یہ نہیں سوچ رہے کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپس جائیں، کمیٹیوں سے نکلنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا تھا وہی اس بارے میں فیصلہ کرسکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






