پاکستان میں اسٹارلنک کے لیے لائسنس حاصل کرنا اب بڑا چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ متعلقہ اداروں نے اس کے رول اور سیکیورٹی اثرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسٹارلنک کو پاکستان میں لائسنس حاصل کرنے سے قبل تمام خدشات دور کرنے ہوں گے اور حکومت کے مقرر کردہ سخت قوانین و ضوابط کی پاسداری کی ضمانت دینی ہوگی۔ خاص طور پر بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں اسٹارلنک کی سہولیات کی دستیابی پر تحفظات ہیں، کیونکہ حکومتی کنٹرول کے بغیر سیٹلائٹ انٹرنیٹ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ متعلقہ اداروں کے مطابق بغیر مؤثر کنٹرول کے ڈیٹا چوری، جاسوسی اور دیگر سیکیورٹی رسک کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے اجراء کا فیصلہ اب صرف تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیکیورٹی اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹیوں میں اسٹارلنک کے حوالے سے پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار ہو چکا ہے۔
قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے جامع اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک ناگزیر ہے، جس پر پی ایس اے اور متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں تاکہ اسے حتمی شکل دی جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






