اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی بھرتیوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی سلیکشن کمیٹیوں کے اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ حکومت کو شفاف انداز میں بھرتیوں کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ہدایت کی کہ تقرریوں کا عمل قانون کے مطابق ازسرنو مکمل کیا جائے اور 60 روز کے اندر رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرائی جائے۔ مزید برآں، غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری نوکریاں ہر شہری کا بنیادی حق ہیں اور تقرریوں کا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جانبداری یا بددیانتی ناقابل قبول ہے۔
عدالت نے خاص طور پر نچلے درجے کی اسامیوں جیسے نائب قاصد، خاکروب اور چوکیدار کی بھرتیوں میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ان عہدوں پر تقرری ایک عوامی امانت ہے، جس میں میرٹ سے ہٹ کر فیصلہ کرنا سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
یہ کیس ڈسٹرکٹ اسپتال کرک میں 2022 میں ہونے والی بھرتیوں سے متعلق تھا، جہاں سلیکشن کے عمل پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد معاملہ عدالت میں زیر سماعت آیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






