کراچی میں سندھ حکومت کے میرج ہالز کی کیپیسٹی 200 افراد تک محدود کرنے اور ڈش سے متعلق پابندی کے نوٹیفکیشن پر میرج ہال ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
کراچی میں سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے میرج ہالز کی کیپیسٹی سے متعلق نوٹیفکیشن پر میرج ہال ایسوسی ایشن سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ ایسوسی ایشن نے ہالز میں مہمانوں کی تعداد 200 افراد تک محدود کرنے اور ڈش سے متعلق پابندی کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
میرج ہال ایسوسی ایشن کے صدر رانا رئیس احمد کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے توانائی کی بچت نہیں ہوگی بلکہ عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ ان کے مطابق میرج ہال میں مہمانوں کی تعداد کم یا زیادہ ہونے سے توانائی کی بچت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
رانا رئیس احمد نے مزید کہا کہ شادی کے موقع پر مہمان اپنے گھروں کی لائٹس اور گیس بند کر کے میرج ہال آتے ہیں جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے جبکہ ایک ہی جگہ پر کھانا پکنے سے گیس کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر فیملیز شادیوں میں ایک ہی گاڑی میں سفر کرتی ہیں جس سے پیٹرول کی بھی بچت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کے اس فیصلے سے میرج ہال انڈسٹری متاثر ہوگی اور اس سے وابستہ افراد پر اضافی دباؤ پڑے گا۔
میرج ہال ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






