لاہور: پنجاب میں اسکولوں کی تعطیلات سے متعلق بڑی تبدیلیوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ہفتہ وار چھٹیوں کو کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے نئے تعلیمی شیڈول پر غور کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پرائیویٹ اسکولز کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال میں ہفتہ وار تعطیلات کو کم کیا جائے تاکہ سالانہ تعلیمی دنوں کی تعداد کم از کم 180 تک پہنچائی جا سکے۔ پاکستان ایجوکیشن فورم کے سربراہ قاضی نعیم انجم نے بھی اس حوالے سے چند تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق موسمِ گرما کی چھٹیوں کو صرف دو ماہ تک محدود کیا جائے جبکہ جنوری میں ہونے والی موسمِ سرما کی تعطیلات کو کم کر کے 10 دن تک کر دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس غیر متوقع اور غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں صرف 127 دن جاری رہ سکیں، جس کی وجہ سے نصاب کی تکمیل میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ قاضی نعیم انجم نے یہ بھی تجویز دی کہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے تعطیلات کے دوران “سمر کیمپس” کا انعقاد کیا جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔ دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ہنگامی صورتحال کے باعث پنجاب حکومت پہلے ہی صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کر چکی ہے۔
محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی تجاویز کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مناسب فیصلے کیے جائیں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






