اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر غیر ملکی شہریوں کے لیے ویزہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت وفاقی وزارتِ داخلہ نے آن آرائیول (On-Arrival) اور پرائر ٹو آرائیول (Prior-to-Arrival) ویزوں کے براہِ راست اجرا کا اختیار واپس لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب پاکستان کا ویزہ صرف اسی ملک میں موجود پاکستانی سفارتخانے یا سفارتی مشن کے ذریعے جاری کیا جائے گا جہاں درخواست گزار مقیم ہوگا۔ نئے طریقہ کار کے تحت ویزہ پراسیسنگ مکمل طور پر سفارتی چینلز کے ذریعے کی جائے گی تاکہ سیکیورٹی جانچ کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ یقینی بنایا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویزہ درخواست دینے کے لیے موجودہ آن لائن پورٹل بدستور استعمال کیا جائے گا، تاہم درخواست موصول ہوتے ہی اسے متعلقہ ملک میں قائم پاکستانی سفارتخانے کو بھیج دیا جائے گا۔ سفارتخانہ درخواست کا تفصیلی جائزہ لے گا اور تمام ضروری پہلوؤں کی تصدیق کے بعد ہی ویزہ جاری کرنے کی منظوری دے گا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ویزہ نظام میں شفافیت بڑھانا اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات کو کم کرنا ہے۔ نئی پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے، جس کے بعد پاکستان آنے کے خواہشمند غیر ملکیوں کے لیے پیشگی سفارتی کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





