پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے میں ناکامی ہوئی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف وفد نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں بہترین پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 25 فروری سے 11 مارچ تک ورچوئل مذاکرات ہوئے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اقتصادی جائزے کے مذاکرات مزید جاری رکھے جائیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث مذاکرات کے مزید ادوار ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال پاکستان کی معیشت کو متاثر کر رہی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق پروگرام پر عملدرآمد مجموعی طور پر وعدوں کے مطابق رہا ہے۔ پاکستان کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور پبلک فنانس مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے پر بھی مذاکرات ہوئے۔ سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے پر معاشی ٹیم سے گفتگو ہوئی۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہداف پر پاکستان کی کارکردگی بہتر رہی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آئی ایم ایف کا 28 ماہ کا آر ایس (Resilience and Sustainability) پروگرام بھی لے رکھا ہے۔

آئی ایم ایف مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی اور مذاکرات کراچی اور اسلام آباد میں ہوئے۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان اقتصادی مذاکرات آئندہ چند دنوں میں جاری رہیں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close