بڑا فیصلہ، مفت سولر سسٹم دینے کی منظوری

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے بجلی کے بحران میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ کے اہم اجلاس میں ضم شدہ اضلاع کے عوام کو سہولت فراہم کرنے اور ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اربوں روپے کے مختلف منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں پشاور شہر کی ترقی کے لیے ریویٹالائزیشن پلان کے تحت متعدد ترقیاتی منصوبے بھی منظور کیے گئے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں کی بہتری، نئے انڈر پاسز کی تعمیر، ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو جدید بنانا، شہر بھر میں نئے ٹریفک سگنلز کی تنصیب اور یادگاری یادگاروں کی تعمیر شامل ہے۔

صوبائی کابینہ نے ایک اہم اور تاریخی اقدام کے طور پر ضم شدہ اضلاع کے ایک لاکھ 20 ہزار مستحق گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کی منظوری دی، جس سے ان علاقوں میں بجلی کی قلت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے رمضان ریلیف پیکج اور دسترخوان پروگرام کے لیے 16 کروڑ 87 لاکھ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ اس ریلیف پیکج سے فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی تعداد بڑھا کر 10 لاکھ 57 ہزار سے زائد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح خصوصی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے لیے موسمِ سرما کے کپڑوں کی خریداری کے لیے 4 کروڑ 17 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کابینہ نے واجب الادا ادائیگیوں کے لیے 40 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے 4 کروڑ 10 لاکھ روپے اور ڈیٹ مینجمنٹ فنڈ رولز میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اکنامک زونز کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں طے پا گیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close