اسلام آباد: حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح کو کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی اور امیر افراد و کارپوریٹ سیکٹر پر عائد سپر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز کو اصولی طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے منظوری حاصل کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کے سامنے پیش کی جانے والی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
حکومتی منصوبے کے مطابق زیادہ آمدنی رکھنے والے تنخواہ دار افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد کم کر کے 30 فیصد تک لانے کی تجویز ہے، جبکہ ٹیکس سلیب یعنی آمدنی کی حد میں اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ امیر افراد اور کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی بات آئی ایم ایف کے سامنے رکھی جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ ان تجاویز کو نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورت کے بعد مزید بہتر بنایا جائے تاکہ انہیں مضبوط انداز میں آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت تقریباً 1.5 سے 1.8 کھرب روپے تک ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اتنی بڑی مالی گنجائش کی منظوری ملنا آسان نہیں ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






