لاہور: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پیر سے ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل چوہدری عرفان الٰہی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی تقریباً 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے جبکہ ڈیزل کی فراہمی معمول کے مقابلے میں صرف 20 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لاہور کے صدر جہانزیب ملک اور وسطی پنجاب کے صدر نعمان مجید نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹیل آؤٹ لیٹس کو پیٹرول کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے نام پر سپلائی ڈپوؤں کے بجائے پیٹرول پمپوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بعض نجی کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے قبل آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ محدود سپلائی کے باعث وہ عوام کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ڈیلرز کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ اوگرا کے مطابق قبل از وقت درآمدات کے باعث پاکستان کے پاس تقریباً 28 دنوں کی کھپت کے لیے کافی پیٹرول موجود ہے، اس لیے عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






