حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہوگا۔وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد پر اہم اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔
وزارت خزانہ نے قرار دیا کہ خطے کی صورتحال پر حکومت کی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ ملک میں فی الحال ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے۔وزار ت خزانہ نے بتایا کہ توانائی کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف اور مرحلہ وار ہوں گے ، ایل این جی اور ایل پی جی کی سپلائی کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ، وزارتوں کو متبادل حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ اجلاس کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ عوام پریشان نہ ہوں، پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی مستحکم ہے ، توانائی کا نظام مکمل طور پر فعال ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






