حکومتِ پاکستان نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں کمرشل اور نجی ڈرونز اُڑانے پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق کسی بھی قسم کا پرائیویٹ یا کمرشل ڈرون اب فضاء میں نہیں اُڑایا جا سکے گا، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ سکیورٹی خطرات کے باعث کیا گیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حکم کی مکمل پاسداری کریں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے بھی تمام اضلاع کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی مشکوک ڈرون یا آلہ برآمد ہو تو فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لیا جائے۔ صرف بم ڈسپوزل یونٹ یا تربیت یافتہ عملہ ہی ایسے آلات کو ہینڈل کرے گا۔ بلوچستان حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
دوسری جانب ڈیرہ غازی خان اور وادی نیلم میں دفعہ 144 نافذ کر کے ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک ماہ کے لیے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عوام کے تحفظ اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ کے لیے کیے گئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





