وفاقی حکومت پاکستان نے فکسڈ چارجز کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت سنگل اور تھری فیز میٹر رکھنے والے گھریلو صارفین پر منظور شدہ لوڈ کے مطابق فکسڈ چارجز عائد کیے جائیں گے۔
سنگل فیز میٹر صارفین کے بلوں میں درج منظور شدہ لوڈ کو فکسڈ چارجز سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت فی کلوواٹ لوڈ کے حساب سے فکسڈ چارجز وصول کیے جائیں گے۔
ایک سے سو یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کو ایک کلوواٹ لوڈ پر 200 روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ دو کلوواٹ لوڈ ہونے کی صورت میں فکسڈ چارجز 400 روپے ہوں گے۔ اسی طرح 101 سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو دو کلوواٹ لوڈ پر 600 روپے، 201 سے 300 یونٹ تک 700 روپے، 301 سے 400 یونٹ تک 800 روپے اور 401 سے 500 یونٹ تک 1000 روپے فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
500 سے 700 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دو کلوواٹ لوڈ پر 1350 روپے فکسڈ چارجز ادا کرنے ہوں گے۔
منظور شدہ لوڈ کے مطابق صارفین کے فکسڈ چارجز میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ تھری فیز میٹر صارفین پر یونٹس اور ایم ڈی آئی ریڈنگ میں سے زیادہ مقدار کی بنیاد پر فکسڈ چارجز لاگو کیے جائیں گے۔ تھری فیز میٹر صارفین کو منظور شدہ لوڈ کے پچاس فیصد تک فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






