بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بلوں سے پریشان کم آمدنی والے افراد کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی

بجلی اور گیس کے بھاری بھرکم بلوں سے پریشان کم آمدنی والے افراد کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔

پاکستان کی اکثریتی آبادی بجلی اور گیس کے بھاری بلوں سے پریشان ہے۔ کئی افراد کے یوٹیلٹی بلز ان کی آمدنی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگیاں بہت مشکل ہو گئی ہیں۔ تاہم ایسے افراد کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔

وفاقی حکومت نے بجلی اور گیس کے نرخوں کے نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق موجودہ کھپت کی بنیاد پر نرخ مقرر کرنے کے طریقہ کار کو آمدنی کی بنیاد پر قیمتوں کے نظام میں تبدیل کرنے کی تجویز زیر غور ہے ۔

تجویز کردہ ماڈل کے تحت سبسڈی گھرانے کی آمدنی کو مدنظر رکھ کر دی جائے گی، نہ کہ استعمال شدہ یونٹس کی تعداد کی بنیاد پر ۔ اس طرح توانائی کی قیمتوں کے تعین کا موجودہ نظام، جس میں نرخ صرف کھپت سے منسلک ہیں، تبدیل ہو جائے گا ۔

نئے طریقہ کار کے تحت گھرانوں کی آمدنی کا تخمینہ لگا کر اسی تناسب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ مالی معاونت صرف مستحق صارفین تک محدود رہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے گھرانے توانائی کی اصل لاگت کے قریب ادائیگی کریں ۔

یہ مجوزہ اصلاحات آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے منسلک بتائی جا رہی ہیں ۔ پاکستان پہلے ہی بجلی کے نرخوں پر نظر ثانی کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہا ہے، جہاں فنڈ کی جانب سے اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی تبدیلی سے کم اور درمیانے آمدنی والے طبقات پر اضافی بوجھ نہ پڑے ۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close