بانیٔ پاکستان تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے بانیٔ پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق تاحال کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا گیا۔
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے انہیں اس وقت تفصیلات ملیں جب وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ علیمہ خان کے مطابق سلمان صفدر نے ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ سے پانی آ رہا تھا اور انہوں نے بینائی دھندلا ہونے کی شکایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے آگاہ کیا کہ گزشتہ تین ماہ سے نظر دھندلا رہی ہے، آنکھ میں درد پر صرف آئی ڈراپس دیے گئے، جبکہ مناسب علاج نہ ہونے پر جیل انتظامیہ اور متعلقہ ڈاکٹرز ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کو فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ اسپتال میں علاج کروایا جائے گا، تاہم اس میں ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی موجودگی شامل نہیں ہوگی۔ علیمہ خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیملی اور ذاتی ڈاکٹر کے بغیر علاج قبول نہیں، اور سرکاری رپورٹس پر اعتماد ممکن نہیں۔ علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے ارکانِ قومی اسمبلی، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے احتجاج پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔ دوسری جانب لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 5 اکتوبر کو سڑک بلاک کرنے اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کر دی ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






