حکومت نے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور صنعتوں کا پہیہ چلانے کے لیے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس مقصد کے تحت حکومت نے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی تیاری کر لی ہے اور آئندہ بجٹ میں صنعتی شعبے کو کارپوریٹ ٹیکس میں ریلیف دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار نے اس حوالے سے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے، جبکہ جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ دس فیصد اور برآمدات میں اس کا حصہ چھ فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے سماء سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے پانچ بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری پر آمادہ ہیں اور چار سال میں پاکستان اسٹیل ملز کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے دو روسی کمپنیوں سے بھی بات چیت حتمی مراحل میں ہے، جبکہ جون 2026 تک شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا۔
ہارون اختر خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ملکی تاریخ میں پہلی بار جامع صنعتی پالیسی لے کر آئی ہے۔ ان کے مطابق جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ 18 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاہم موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے ساتھ صنعتی ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائے گا اور کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کے لیے بھی بات کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کو بتایا جائے گا کہ اس ریلیف سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل فون، ٹریکٹرز اور سولر بیٹریاں میڈ اِن پاکستان ہوں گی، جبکہ گرڈ اسٹوریج ٹیکنالوجی کے لیے نئی پالیسی پر بھی کام جاری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






