سندھ طاس معاہدہ،بھارت نے خاموشی اختیار کر لی

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی جانب سے طلب کیے گئے جوابات دینے کے بجائے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارت سے 16 دسمبر 2025 تک اس معاہدے سے متعلق اقدامات کی وضاحت طلب کی تھی، تاہم مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے 51 دن بعد بھی نئی دہلی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے اقدامات کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، اور اقوامِ متحدہ اب بھی بھارت کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔ بھارت کی یہ مسلسل خاموشی بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے اور اس حوالے سے سوالات اب بھی برقرار ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close