قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جب ناانصافی کے ساتھ گھر اور رشتے قائم نہیں رہ سکتے تو پھر ملک کیسے چلایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں، کسی ایک فرد یا جماعت پر الزام ڈالنے سے حقیقت نہیں بدلے گی۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق محمود اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ آئین کو عملاً پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، جو ملک کے لیے نہایت خطرناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے مخالف نہیں، بلکہ اصول اور آئین کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مریم نواز کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ظلم کے خلاف سب کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ یہ صرف کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا سوال ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک نازک اور خطرناک دور سے گزر رہا ہے اور اگر سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی معاہدہ کریں اور سیاست کو لوٹ مار کرنے والوں سے پاک کریں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل محمود اچکزئی کی قیادت میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق وفد نے 8 فروری کو ہونے والے جلسے کے وقت میں رد و بدل یا مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ دونوں سیاسی سرگرمیاں ایک دوسرے سے متاثر نہ ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا تھا کہ جلسے اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے حکمتِ عملی طے کی جا رہی ہے تاکہ ملک گیر ہڑتال اور پہیہ جام کی کال پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ ملاقات میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں مظاہرے کیے جائیں گے جبکہ ملک بھر کے پریس کلبز کے باہر بھی احتجاج ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں تاجی کھوکھر کے ڈیرے پر اجتماع سے خطاب کریں گے، جبکہ لاہور، کراچی اور پشاور میں بھی بڑے مظاہروں کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






