وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امام بارگاہ کے اندر ہونے والے خودکش حملے کے معاملے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوع سے شواہد جمع کرنے کے لیے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی تکنیکی معاونت حاصل کی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور نے دھماکے سے قبل اندھا دھند فائرنگ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے راستے میں دو افراد پر فائرنگ کی، اس کے بعد مسجد کے ہال میں داخل ہو کر مزید چھ گولیاں چلائیں۔ تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوع سے تمام گولیوں کے خول برآمد ہو چکے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے فوراً بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حملے میں تقریباً چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں بال بیرنگز شامل تھیں، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ میں داخلے سے روکے جانے پر حملہ آور نے خودکش دھماکا کیا تھا، جس کے نتیجے میں 32 نمازی شہید اور 170 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی ادارے حملے کے محرکات، سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے متعلق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






