مذہب بدلنے پر پہلی شادی ‘غائب’؟ لاہور ہائی کورٹ کا حکومت کو سخت قانون سازی کا حکم!

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے مذہب کی تبدیلی کے بعد عورت کی پہلی شادی کی قانونی حیثیت پر حکومت کو جامع قانون سازی کا بڑا حکم جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ قانونی ابہام کی وجہ سے لوگ سنگین پیچیدگیوں میں الجھے رہتے ہیں، لہٰذا حکومت کو اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کے اشتراک سے ایسا فریم ورک تیار کرنا چاہیے جو تمام فریقین—بشمول بچوں اور سابقہ خاوند—کے حقوق کا تحفظ کرے۔ یہ فیصلہ کرن نامی خاتون کی درخواست پر آیا، جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد دوسری شادی کی تھی۔ اس کی پہلی شادی کے خاوند نے پولیس کو شکایت دے دی، جس کے بعد پولیس اسے ہراساں کر رہی تھی۔ خاتون نے عدالت میں مدد مانگی کہ اس کی نئی شادی کو تسلیم کیا جائے۔

جسٹس شیخ نے ریمارکس میں کہا: “اگر کوئی خاتون اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرے تو پارلیمنٹ کو قانون بنانا چاہیے جو پہلی شادی کی حیثیت اور بچوں کے حقوق کو واضح کرے، تاکہ ابہام ختم ہو۔” عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ قانون آئین کے اقلیتوں کے حقوق کے مطابق ہو اور وفاقی شرعی عدالت میں اسے زیر بحث لایا جائے۔ پولیس سے خاتون کو ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی لینے کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close