لاہور : پنجاب حکومت کی جانب سے فروری میں تین روزہ بسنت منانے کی مشروط اجازت کے بعد انتظامیہ نے ایک بڑی پابندی ختم کر دی ہے، جس سے بسنت کے انتظامات میں نمایاں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔
حکومتِ پنجاب نے 6 سے 8 فروری تک لاہور میں بسنت منانے کی اجازت دیتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کی تھیں۔ اب ضلعی انتظامیہ نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور، کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے حکم جاری کرتے ہوئے ضلع لاہور اور صوبہ پنجاب سے باہر سے پتنگ بازی کا سامان لانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اس خدشے کے پیشِ نظر کیا گیا کہ بسنت کے دوران سامان مہنگا نہ ہو اور طلب و رسد میں توازن برقرار رہے۔
حکم نامے کے مطابق صرف رجسٹرڈ تاجر ہی پتنگ بازی کے سامان کی قانونی خرید و فروخت کر سکیں گے۔ تاجروں کو ای بیز پورٹل کے ذریعے آن لائن ٹرانسپورٹیشن پرمٹ حاصل کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے، جس کے تحت وہ سامان کی ترسیل کے لیے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت شہر میں صرف ڈپٹی کمشنر کی جانب سے منظور شدہ کمرشل مقامات پر کاروبار اور سامان ذخیرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دھاتی ڈور اور ممنوعہ کیمیکلز کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
اس کے علاوہ پتنگوں پر مذہبی، سیاسی، شخصی یا ملکی پرچم سے متعلق کسی بھی قسم کی تصویر یا نقش و نگار کی سختی سے ممانعت ہو گی۔ تاجروں کو ممنوعہ سامان کی عدم موجودگی کا بیانِ حلفی جمع کروانا بھی لازم قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر اضلاع سے سامان لانے کے لیے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 پر سختی سے عملدرآمد کے ذریعے شہریوں کو محفوظ اور پُرامن تفریح فراہم کی جا رہی ہے، اور قانون کے دائرے میں رہنے والے رجسٹرڈ تاجروں کو مکمل سہولیات دی جائیں گی۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






