وفاقی حکومت نے آئندہ پانچ سال میں قیمتی پتھروں کی برآمدات ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے سال 2027 سے 2030 کے لیے قیمتی پتھروں کے شعبے سے متعلق حکومتی پالیسی کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پالیسی کے اس ابتدائی ڈرافٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد اسے جلد کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ قیمتی پتھروں کی برآمدات سے متعلق پالیسی کے ابتدائی مسودے پر تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
ابتدائی پالیسی ڈرافٹ کے مطابق جیمز اینڈ جیولری پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال میں قیمتی پتھروں کی برآمدات میں ایک ارب ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا۔ اسی پالیسی کے تحت پانچ سال کے دوران 3500 ورکرز کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ اس شعبے میں مہارت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔
دستاویز کے مطابق پالیسی کے تحت 320 بین الاقوامی اور ایک ہزار مقامی نمائشوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں جیم اسٹون سینٹر کے ذریعے چھ کروڑ 24 لاکھ روپے کی ویلیو ایڈیشن کی جائے گی۔
دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ پانچ سال کے دوران قیمتی پتھروں کی برآمدات کے لیے 48 جدید مشینوں کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ آئندہ چار سال میں قیمتی پتھروں کی صنعت کے فروغ کے لیے نو ارب 78 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






