گل پلازہ آگ: بچ جانے والے عینی شاہد کا دل دہلا دینے والا بیان سامنے آ گیا

کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے میں بچ جانے والے ایک عینی شاہد نے اپنے دل دہلا دینے والے تجربے کا حال بیان کیا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ ان کی کراکری کی دکان وہاں موجود تھی اور ان کی گاڑی بھی اوپر پھنس گئی تھی۔ وہ آخری لمحات میں وہاں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا، “5 سے 6 خواتین آئیں اور مدد کے لیے کہا، لیکن دھواں اتنا زیادہ تھا کہ ہم واپس دکان کی طرف آگئے۔ دکان کے قریب بھی لوگ دروازے بند کر رہے تھے۔” شاہد نے مزید بتایا کہ گل پلازہ کی عمارت میں پہلے بھی کئی بار آگ لگی تھی، لیکن اس بار صورتحال انتہائی خطرناک تھی۔ انہوں نے کہا، “صرف مسجد کی جانب اور ایک ریمپ کے راستے کا دروازہ کھلا تھا، نیچے اترنے والے چاروں دروازے بند تھے۔”

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چھت پر 100 سے زائد موٹر سائیکلیں اور سات گاڑیاں کھڑی تھیں، لیکن حادثے کے بعد تمام دکاندار اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن سات روز سے جاری ہے، اور اس دوران مزید انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہو گئی ہے۔ سول اسپتال کراچی میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے مزید باقیات بھیجی گئی تھیں، اور پوسٹ مارٹم کے دوران معلوم ہوا کہ برآمد ہونے والی باقیات کی مقدار زیادہ ہے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ، جاوید نبی کھوسو کے مطابق سرچ آپریشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ آج مکمل ہو جائے گا۔ سرکاری فہرست کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 77 ہے، تاہم اگر مزید کوئی لاپتہ ہو تو وہ رابطہ کر سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close