گل پلازا کے بند دروازے، عارضی طور پر رکی مشینری، اور 60 کے قریب لاشیں، تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات

ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازا کی عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور اس سلسلے میں مختلف افراد کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکار ایک بار پھر عمارت میں داخل ہو چکے ہیں اور پوری عمارت کی دوبارہ مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے کیونکہ مشینری کے استعمال سے عمارت کے مزید گرنے کا خطرہ موجود ہے۔ جاوید نبی کھوسو نے واضح کیا کہ ملبے کے باعث گرنے والے حصوں میں فی الحال سرچ آپریشن ممکن نہیں، تاہم ملبہ ہٹنے کے بعد متاثرہ حصوں میں دوبارہ تلاش کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق گل پلازا سے اب تک 55 سے 60 کے قریب لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ لاشوں کی شناخت کے لیے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ڈی این اے نمونے لیے جا رہے ہیں، تاہم بعض اعضاء ایسے ہیں جن کا ڈی این اے حاصل کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close