وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللّٰہ نے واضح کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی جانب سے پیش کی گئی بات ان کی ذاتی رائے تھی، نہ کہ پارٹی پالیسی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر رکنِ اسمبلی کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے اور ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
اپنے بیان میں رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں، انہوں نے صرف اپنی ذاتی سوچ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی تاہم اگر تمام فریق دوبارہ متفق ہوں تو اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق پورے آئین میں بہتری کا راستہ آئینی طریقۂ کار کے تحت کھلا ہے۔
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ نوید قمر نے اسمبلی میں اپنی دلیل پیش کی جس میں وزن تھا، اور کسی بھی رکن کو اظہارِ خیال سے روکنا مناسب عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف واضح ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر گفتگو ہونی چاہیے۔ ن لیگی رہنما نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ہر ملاقات کو ریاست اور اداروں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کا باقاعدہ طریقۂ کار طے کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے اور جب تک نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے، عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں، یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور تعمیر کب ہوئی۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مکمل احتساب ہونا چاہیے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






