گل پلازہ کے بعد ایک اور پلازے میں خوفناک آتشزدگی

کوئٹہ: کراچی میں گل پلازہ کے المناک واقعے کے بعد کوئٹہ کے مصروف تجارتی علاقے پرنس روڈ پر واقع چار منزلہ پلازہ میں بھی شدید آتشزدگی بھڑک اٹھی، جس پر سات گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر لگی۔ ریسکیو اور فائربریگیڈ کی ٹیمیں تاحال آگ بجھانے میں مصروف ہیں، تاہم آگ کی شدت میں نمایاں کمی آچکی ہے۔ فائربریگیڈ کی دس سے زائد گاڑیاں موقع پر موجود ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ قریبی دکانوں اور عمارتوں تک نہ پھیلے۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھانے کے دوران دھوئیں کے باعث دو فائر فائٹرز بے ہوش ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلازہ میں موجود چوکیداروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت کے مطابق ابتدائی طور پر آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے کا شبہ ہے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلازہ میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، گارمنٹس اور دیگر قیمتی سامان کی دکانیں موجود ہیں، جس کے باعث مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور آگ بجھانے کے عمل کا معائنہ کیا۔ ڈی سی کوئٹہ کے مطابق فائر بریگیڈ نے فوری رسپانس دیتے ہوئے آگ پر تقریباً 70 فیصد تک قابو پا لیا ہے، جبکہ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے سمیت چار ادارے مشترکہ طور پر کارروائی میں مصروف ہیں اور توقع ہے کہ ایک سے دو گھنٹوں میں آگ پر مکمل قابو پا لیا جائے گا۔

متاثرہ تاجروں نے بتایا کہ پلازہ میں بیسمنٹ سمیت 200 سے زائد دکانیں قائم ہیں، جن میں کمپیوٹر، موبائل فون، گارمنٹس اور جوتوں کا قیمتی سامان موجود تھا۔ تاجروں کا الزام ہے کہ فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی، اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو نقصان کم ہو سکتا تھا۔ حکام کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجوہات اور نقصانات کا تخمینہ آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد لگایا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close