تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو ریلیف ؟؟؟ اہم خبر آ گئی

وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کے لیے ریلیف فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، حکومت ایسے منصوبے تیار کر رہی ہے جس کے تحت تنخواہ دار طبقے اور رجسٹرڈ کاروباروں کو سہولت دی جائے گی۔ مشیر خزانہ خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ دستاویزی معیشت سے وابستہ افراد اور کاروباروں کے لیے مخصوص اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت توانائی کی قیمتوں میں کمی اور ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنا کر ٹیکس دہندگان کو براہِ راست فائدہ پہنچانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں موٹرویز کی بندش کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4 فیصد اضافے کا امکان ہے، جو اگلے سال 5 فیصد تک جا سکتا ہے۔ ملک کے بیرونی مالیاتی معاملات میں بہتری کے لیے ترسیلاتِ زر کے 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ خرم شہزاد نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اقتصادی جائزے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت پائیدار معاشی پالیسی اپنا رہی ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قومی خزانے پر بوجھ بننے والے 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی۔ اسی دوران کھیل کے میدان سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ بنگلادیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے مشیر خزانہ نے بتایا کہ افراطِ زر کی شرح 25 سے 30 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 5 فیصد پر آ گئی ہے اور حکومت کی ترجیح شہریوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے تاکہ برآمدات اور طویل مدتی ترقی کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے ٹیکس وصولیوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال وفاق نے 13 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جس سے ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 11.3 فیصد رہا، جبکہ عالمی سطح پر یہ معیار 18 فیصد ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close