وفاقی حکومت نے سال 2026 کے دوران 8 لاکھ پاکستانیوں کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، جب تقریباً 7 لاکھ 40 ہزار افراد بیرون ملک ملازمتیں حاصل کر سکے تھے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستانی افرادی قوت کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر جی سی سی ممالک اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں۔
وزیر نے خواتین کے لیے ایک اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند خواتین کے لیے کم از کم عمر کی حد 35 سال سے کم کر کے 25 سال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوریا اور جاپان کے تعاون سے سافٹ اسکلز کی تربیت کے پروگرامز بھی شروع کر رہی ہے، تاکہ پاکستانی افرادی قوت عالمی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار ہو سکے۔
چوہدری سالک حسین نے زور دیا کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی نہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ کوریا میں کام کرنے والا ایک پاکستانی مزدور اوسطاً ماہانہ 1,800 ڈالر وطن بھیجتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






