سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف پوسٹیں فوری ہٹانے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف پوسٹیں فوری ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے ایسی پوسٹیں کرنے والے تمام افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس علی ضیاء باجوہ نے وکیل چودھری ظہور الہی کی درخواست پر ججز کی کردار کشی مہم کے خلاف سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ ایسی کوئی بھی پوسٹ دکھائی دی تو سربراہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی ذمہ دار ہوں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدلیہ مخالف مہم کو واضح طور پر توہین عدالت قرار دیا جبکہ وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر موجود تمام متعلقہ مواد فوری ہٹایا جائے گا۔ عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے ازخود کارروائی نہ کرنے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ عدلیہ کے ادارے کے خلاف سائبر گردی ہے جو پیکا ایکٹ کے تحت توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے کا ازخود کارروائی کا اختیار ختم ہو گیا ہے اور اتنی شدید مہم کے باوجود ادارہ کارروائی کیوں نہیں کر رہا۔ عدالت نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا ٹرولنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے قبل ایف آئی اے کی اب تک کی کارکردگی دیکھنی پڑے گی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close